بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ رپورٹ کے مطابق، پیڈوفائل امریکی صدر ٹرمپ مشی گن میں انتخابی جلسے کے موقع پر، نرگسیت کے مارے خودستائی (اور اپنی تعریف) میں زمین و آسمانے کے قلابے ملانے میں مصروف تھا کہ اس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں میں سے ایک نے جنسی اسمگلر اور بچوں پر زیادتی کرنے اور کرانے کے لئے بدنام زمانہ شخص جیفری ایپسٹین کیس کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ کو 'بچوں کے ساتھ زیادتی کا مرتکب' قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ مشی گن کے شہر ملفورڈ میں خطاب کر رہا ہے جبکہ ایک یا ایک سے زیادہ مظاہرین اس کی تقریر کے دوران بار بار 'بچوں کے ساتھ زیادتی کا مرتکب' کا نعرہ لگاتے ہیں اور وہ اپنی تقریر مختصر مدت کے لئے روک دیتا ہے۔
امریکی رسالے نیوزویک کی رپورٹ کے مطابق، 'یہ نعرے اس وقت لگائے جا رہے ہیں جب ناقدین اور کانگریس کے بعض قانون سازوں کی جانب سے جیفری ایپسٹین سے متعلق مزید دستاویزات جاری کرنے کے لئے دباؤ بڑھ گیا ہے۔'
ٹرمپ کی تقریر روکنے اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے ایک شخص کو حراست میں لینے کے بعد، امریکی صدر نے مائیکروفون کے سامنے دعویٰ کیا: 'وہ ایک کمیونسٹ ہے، وہ ایک کمیونسٹ ہے۔'
ٹرمپ کے حامیوں نے انتخابی جلسے میں سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے ٹرمپ مخالف مظاہرے کے خلاف مداخلت کے دوران یہ نعرہ لگانا شروع کر دیا: 'یو ایس اے! یو ایس اے!'
ٹرمپ ایسے حال میں مشی گن چلا گیا ہے کہ یہ ریاست اس وقت کانگریس کے درمیانی مدت کے انتخابات میں ایک اہم 'میدان جنگ' بن گئی ہے۔
نیوزویک نے نومبر کے انتخابات میں مشی گن کی اہمیت کے بارے میں اس ریاست کو امریکہ میں 'سیاسی توجہ کا بنیادی مرکز' قرار دیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، 'یہ ریاست ملک میں سینیٹ کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مقابلوں میں سے ایک کی میزبانی کر رہی ہے اور توقع ہے کہ دونوں جماعتیں (سینیٹ پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے) ان مقابلوں میں بھاری سرمایہ کاری کریں گی۔'
آپ کا تبصرہ